ہمارے عقائد
مکتبِ اہلِ بیتؑ، یعنی اثنا عشری شیعہ اسلام میں ہمارے بنیادی عقائد کو دو حصوں میں بیان کیا جاتا ہے: اصولِ دین اور فروعِ دین۔ اصولِ دین وہ بنیادی اعتقادات ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جن میں توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت شامل ہیں۔ جبکہ فروعِ دین سے مراد وہ عملی احکام ہیں جن کے ذریعے ایک مسلمان اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالتا ہے، جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خمس، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی۔
اصول دین
اصول دین، اسلام کے ان بنیادی اعتقادات کو کہا جاتا ہے جن پر اعتقاد رکھنا مسلمان ہونے کے لئے شرط ہے۔ اسلامی تعلیمات میں توحید، نبوت اور معاد اصول دین میں شامل ہیں۔ تمام اسلامی مذاہب ان تین اصولوں پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ البتہ بعض ایسے اصول بھی ہیں جن کو بعض مذاہب قبول کرتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ دوسرے مذاہب سے ممتاز ہوتے ہیں۔ اصول دین کے مقابلے میں عملی احکام کو فروع دین کہا جاتا ہے۔
شیعہ مذہب کے اصول دین میں درج بالا تین بنیادی اصولوں کے علاوہ امامت اور عدل بھی شامل ہیں۔ اصول دین کی شناخت مسلمانوں کے نزدیک واجب ہے لیکن آیا اس سلسلے میں یقین لازمی ہے یا ظن و گمان کافی ہے؟ علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح اصول دین میں تقلید کے جائز ہونے اور نہ ہونے میں بھی اختلاف ہے۔ اکثر علماء اصول دین پر یقین کے ساتھ ایمان رکھنے کو ضروری سمجھتے ہیں اسی بنا پر اصول دین میں تقلید کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔
اصول دین کے معنی
اصول دین ایک کلامی اصطلاح ہے جو فروع دین کے مقابلے میں استعمال ہوتی ہے اور اس کا اطلاق اعتقادات کے اس مجموعے پر ہوتا ہے جو دین اسلام کی اساس کو تشکیل دیتے ہیں اور ہر مسلمان کو ان پر عقیدہ اور یقین رکھنا پڑتا ہے ورنہ وہ مسلمان شمار نہیں ہوتا ہے؛ یعنی اصول دین میں سے ہر ایک کا انکار موجب کفر اور باعث عذاب خداوندی ہے۔
یہ اصطلاح دو معانی کیلئے استعمال ہوتی ہے:
- اصول دین کا لفظ فروع دین کے مقابلے میں تمام اسلامی اعتقادات کیلئے بولا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اصول دین میں وہ تمام اعتقادی مسائل شامل ہونگے جن میں غور و فکر کرنا مطلوب ہے اور فروع دین میں وہ تمام مسائل شامل ہونگے جن کا انجام دینا یا ترک کرنا مطلوب ہے۔[1]
- اصول دین کا لفظ “توحید، عدل،نبوت، امامت اور قیامت” یا “توحید، نبوت اور قیامت” کے مجموعے کیلئے استعمال ہوتا ہے البتہ عام طور پر توحید، نبوت اور قیامت کو “اصول دین” اور عدل اور امامت کو اصول مذہب کہا جاتا ہے ۔
اصول دین کا لفظ اگرچہ موجودہ شیعہ علم کلام اور انکی دیگر علوم کی کتب میں ” توحید،عدل ،نبوت، امامت اور قیامت” کیلئے استعمال ہوتا ہے لیکن سید مرتضی نے اس لفظ کو معتزلہ کے نزدیک اعتقادات کے ایک مجموعے: توحید،عدل ، وعد ووعید، منزلہ بین المنزلتین اور امر بالمعروف و النہی عن المنکر، کیلئے ذکر کیا ہے۔[2]۔ معتزلی علماء کے نزدیک انہیں ہی “اصول خمسہ” کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔[3] ۔ نیز سید مرتضی نے کہا کہ متاخرین اصول دین میں صرف توحید اور عدل شمار کرتے ہیں ۔ [4] ۔لیکن اس کے ساتھ ہی بعض دیگر کتب میں اصول دین کی تعداد چار : توحید ، عدل، نبوات اور شرائع ذکر ہوئی ہے ۔
وجۂ تسمیہ
- شیعہ متکلمین کے مطابق حدیث، فقہ اور تفسیر جیسے دوسرے تمام دینی علوم “اصول دین” کی بنیاد پر استوار ہیں کیونکہ تمام دینی علوم رسول خداؐ کی صداقت پر موقوف ہیں اور رسول خداؐ کی صداقت رسول بھیجنے والے کے وجود، اس کی صفات اور اس کی عدالت کے اثبات پر موقوف ہے۔ اس بنا پر ان اعتقادات کو “اصول دین” کا نام دیا گیا ہے۔[5]
- اس مشہور معنی کے علاوہ بعض ادوار میں علم کلام کو “اصول دین” بھی کہا جاتا رہا ہے ۔[6]۔[7]
کتاب و سنت کی روشنی میں اصول دین
اصول دین کی اصطلاح متکلمین نے وضع کی ہے اور قرآن یا حدیث نے دینی تعلیمات کو اصول اور فروع میں تقسیم نہیں کیا ہے۔
البتہ احادیث میں ایسے اشارے ملتے ہیں کہ اسلام کچھ اصول اور مبادیات پر استوار ہے؛ مثال کے طور پر امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ “اسلام کے اصول کیا ہیں اور کن امور کی معرفت واجب ہے جن میں کوتاہی اور قصور کی وجہ سے انسان کا دین اور عقیدہ فاسد ہوجاتا ہے اور اگر کوئی ان کی معرفت حاصل کرے تو اس کا دین و عقیدہ صحیح ہوتا ہے اور اس کا عمل مقبول بارگاہ ربانی ہے؟ فرمایا: یہ کہ وہ توحید (اور اللہ کی وحدانیت) اور محمد(ص) کی نبوت کی گواہی دے؛ جو کچھ آپ(ص) خدا کی جانب سے لائے ہیں اس کی تصدیق کرے، اپنے اموال میں وجوب زکوۃ کا اقرار کرے اور زکات ادا کرے، اور آل محمد(ص) کی ولایت کا اقرار کرے۔[8]
یا ایک حدیث میں امام باقر(ع) سے مروی ہے کہ اسلام کے پانچ ستون ہیں: نماز، زكات، روزہ، حج اور ولایت، اور ولایت سب سے اہم ہے۔[9] [جو ان کے قیام و نفاذ کی ضمانت ہے]۔ یہ احادیث جو ائمۂ شیعہ سے منقول ہیں، بتا رہی ہیں کہ دین سے متعلق معارف و تعلیمات کا ایک حصہ ایسا ہے کہ ان پر یقین نہ رکھنا انکار دین کے مترادف (ہم معنی) ہے، جبکہ ان تعلیمات کا ایک حصہ اس سے مختلف ہے۔
اصول دین میں یقین یا ظن
(اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے کہ اصول دین پر ایمان رکھنا لازمی ہے لیکن بحث اس میں ہے کہ کیا اصول دین پر ایمان یقینی اور قطعی و جزمی علم پر استوار ہونا چاہئے یا صرف ظنی (اور گمان غالب پر مبنی) معرفت کافی ہے؟ اور اگر اصول دین پر ایمان کو قطعی علم پر استوار ہونا چاہئے تو کیا یہ علم دلیل و برہان کے ذریعے حاصل ہونا چاہئے یا تقلید کے ذریعے حاصل ہونے والا علم کافی ہے؟ اور اس سلسلے میں اقوال مختلف ہیں۔ اکثریت کی رائے ہے کہ اصول دین پر ایمان یقینی اور جزمی معرفت پر استوار ہونا چاہئے اور ظنی معرفت کافی نہیں ہے۔ شہید ثانی کے بقول [10] اس نظریئے کی سند وہ آیات اور احادیث ہیں جن میں ظن اور گمان کی پیروی کو مذموم قرار دیا گیا ہے جیسا کہ:
– سورہ یونس آیت 36:
وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنّاً إَنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً۔
ترجمہ: اور ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو نہیں پیروی کرتے مگر ایک طرح کے گمان کی، بلاشہ گمان حق تک پہنچنے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
– سورہ انعام آیت 116:
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ۔
ترجمہ: اور اس زمین کے رہنے والوں کی اکثریت کا اگر تم کہنا مانو تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف قیاس آرائیاں ہی کرتے ہیں۔
– سورہ جاثیہ آیت 24:
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُم بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ۔
ترجمہ: اور انہوں نے کہا کہ نہیں ہے سوا اس دنیوی زندگی کے یہی مرنا ہے، یہی جینا ہے اور ہمیں ہلاک نہیں کرے گا مگر یہی دور زمانہ حالانکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں ہے، نہیں رکھتے وہ مگر ایک وہم وگمان۔
اس رائے کے مقابلے میں بعض محققین نے ظن قوی (یا گمان غالب) کو کافی گردانا ہے اور کہا ہے کہ کہ ظنِ قوی سکون نفس کا سبب ہوتا ہے اور شارع مقدس کے نزدیک بھی علم معتبر وہی ہے جو سکون نفس کا سبب بنے۔[11]۔[12] چنانچہ جو کچھ اصول دین پر ایمان کے سلسلے میں لازمی ہے وہ اطمینان ہے جو “یقینِ عرفی” بھی کہلاتا ہے۔ یقین عرفی میں مخالف امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاتا لیکن چونکہ یہ احتمال اور امکان ضعیف ہوتا ہے اسی لئے اس کو لائق اعتنا نہیں سمجھا جاتا جبکہ “یقینِ منطقی بالمعنی الأخصّ” میں مخالف امکان مکمل طور پر خارج سمجھا جاتا ہے۔