غدیرِ خم: «مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ» — ایک عظیم تاریخی اعلان

اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ

اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک واقعہ غدیرِ خم ہے، جو رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں پیش آیا۔ اس موقع پر رسولِ خدا ﷺ نے ایک عظیم اجتماع کے سامنے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں ایک ایسا فرمان ارشاد فرمایا جو اسلامی تاریخ اور حدیث کے ذخیرے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ»

”جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔“

غدیرِ خم کا واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ رسولِ اکرم ﷺ، حضرت علی علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے متعلق ایک نہایت اہم اسلامی موضوع ہے۔ اس واقعے کی روایت مختلف کتبِ حدیث میں متعدد اسناد اور مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔

غدیرِ خم کہاں اور کب پیش آیا؟

غدیرِ خم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام تھا۔ حجۃ الوداع کے بعد جب رسولِ اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ واپس تشریف لے جا رہے تھے تو غدیرِ خم کے مقام پر قافلہ رکا۔ یہاں رسولِ اکرم ﷺ نے لوگوں کو جمع فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اپنا معروف فرمان ارشاد فرمایا۔

اس موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَن وَالَاهُ، وَعَادِ مَن عَادَاهُ»

یعنی: ”جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے ولایت و محبت رکھے، تو اس سے ولایت و محبت رکھ، اور جو ان سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی رکھ۔“

اہلِ سنت کی کتبِ حدیث میں حدیثِ غدیر

حدیثِ غدیر کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ روایت صرف شیعہ مصادر تک محدود نہیں بلکہ اہلِ سنت کی متعدد معروف کتبِ حدیث میں بھی مختلف طرق سے نقل ہوئی ہے۔

1۔ جامع الترمذی

امام ترمذی نے اپنی معروف کتاب جامع الترمذی میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ»

امام ترمذی نے اس روایت کو حسن غریب قرار دیا ہے۔ یہ روایت جامع الترمذی، حدیث نمبر 3713 کے طور پر معروف ہے۔

2۔ مسند احمد بن حنبل

مسند احمد میں بھی واقعۂ غدیر سے متعلق متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ بعض روایات میں حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں سے غدیر کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان یاد کرنے والوں کے بارے میں گواہی طلب کی، جس پر متعدد صحابہ نے گواہی دی کہ انہوں نے رسولِ خدا ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَن وَالَاهُ، وَعَادِ مَن عَادَاهُ»

مسند احمد میں اس مضمون کی متعدد روایات موجود ہیں، جو واقعۂ غدیر کی روایت کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔

3۔ السنن الکبریٰ للنسائی

امام نسائی کی السنن الکبریٰ میں بھی واقعۂ غدیر کی روایات موجود ہیں۔ ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں سے گواہی طلب کی، جس پر صحابہ نے رسولِ اکرم ﷺ سے سنے ہوئے فرمان کی گواہی دی:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ»

اسی طرح ایک تفصیلی روایت میں رسولِ اکرم ﷺ کی طرف سے مؤمنین پر آپ ﷺ کی اولویت کا ذکر اور اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں حدیثِ غدیر بیان ہوئی ہے۔

4۔ صحیح ابن حبان

صحیح ابن حبان میں بھی واقعۂ غدیر سے متعلق روایت موجود ہے، جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے لوگوں سے سوال فرمایا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ مؤمنین پر خود ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں؟ اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَهٰذَا مَولاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَن وَالَاهُ، وَعَادِ مَن عَادَاهُ»

5۔ المستدرک علی الصحیحین

امام حاکم نیشاپوری نے المستدرک علی الصحیحین میں بھی غدیر سے متعلق روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں رسولِ اکرم ﷺ کا حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمان ”مَن كنت مولاه فهذا وليه“ اور اس کے ساتھ ”اللهم وال من والاه وعاد من عاداه“ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

”مولا“ کے لفظ کا مفہوم

حدیثِ غدیر کے حوالے سے ایک اہم علمی بحث لفظ ”مولا“ کے مفہوم سے متعلق ہے۔ عربی زبان میں ”مولا“ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے اور مختلف سیاق و سباق میں اس کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، جن میں سرپرست، دوست، مددگار، محبوب، صاحبِ ولایت اور دیگر معانی شامل ہیں۔

شیعہ علماء حدیثِ غدیر کے الفاظ، خطبے کے سیاق، رسولِ اکرم ﷺ کے سوال اور دیگر قرائن کی بنیاد پر ”مولا“ سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت، سرپرستی اور امامت مراد لیتے ہیں۔ دوسری جانب اہلِ سنت کے بعض علماء اور شارحین حدیثِ غدیر میں ”مولا“ کو حضرت علی علیہ السلام سے محبت، نصرت اور دینی وابستگی کے مفہوم میں بیان کرتے ہیں۔

یہ ایک معروف علمی و تفسیری اختلاف ہے، جبکہ خود حدیث کے نقل ہونے کا معاملہ متعدد حدیثی مصادر میں موجود ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ اور حضرت علی علیہ السلام کا مقام

حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد اور اہلِ بیتِ اطہار میں سے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں آپ علیہ السلام کی شخصیت علم، شجاعت، عبادت، عدل اور رسولِ اکرم ﷺ سے قربت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔

حدیثِ غدیر اسی محبت اور تعلق کے ایک اہم تاریخی اظہار کے طور پر اسلامی علمی روایت میں محفوظ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے مختلف مواقع پر حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان فرمائے، اور غدیرِ خم کا واقعہ بھی اسی سلسلے کا ایک اہم واقعہ ہے۔

غدیرِ خم کا پیغام

غدیرِ خم ہمیں رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت، ان کے فضائل کو جاننے اور اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تاریخ اور حدیث کے اہم واقعات کو تعصب کے بجائے تحقیق، علمی دیانت اور احترام کے ساتھ پڑھے۔

حدیثِ غدیر پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف مکاتبِ فکر کے علمی مؤقف کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ اس سے نہ صرف تاریخی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اسلامی علمی روایت کے اندر موجود مختلف تفسیری زاویوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

غدیر: محبت، ولایت اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی

شیعہ مسلمان غدیرِ خم کو حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور امامت کے اعلان کے طور پر یاد کرتے ہیں اور عیدِ غدیر کو بڑی عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دن اسلامی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اسی موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فرمایا۔

غدیر کا پیغام اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت، ان کی سیرت کے مطالعے اور ان کی تعلیمات سے وابستگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

اختتامیہ

غدیرِ خم اسلامی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا ذکر متعدد حدیثی مصادر میں ملتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان:

«مَن كُنتُ مَولاهُ فَعَلِيٌّ مَولاهُ»

صدیوں سے علماء، محدثین اور محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس حدیث کے مفہوم اور دلالت کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان علمی اختلاف موجود ہے، لیکن حضرت علی علیہ السلام کی عظمت، فضیلت اور رسولِ اکرم ﷺ سے قربت اسلامی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت علی علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات کو سمجھنے، ان پر غور کرنے اور اپنی زندگی میں ان کی بہترین تعلیمات اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اہم حدیثی مراجع

  • جامع الترمذی، حدیث 3713
  • مسند احمد بن حنبل، روایاتِ غدیر
  • السنن الکبریٰ للنسائی، روایاتِ غدیر
  • صحیح ابن حبان، حدیث 6931
  • المستدرک علی الصحیحین للحاکم، روایاتِ غدیر
 

 

What do you think?
Insights

More Related Articles